حوا کی بیٹی کی عزت ہوا میں اڑا دی گئی


5365
9.1k shares, 5365 points

پاکستان جیسے قبائلی معاشرے میں جہاں گھریلو تشدد نہایت عام ہے، ایسے میں عورت کو ناکردہ جرم کی بِنا پر قتل کردینا کوئی نئی بات نہیں۔ بیشتر رپورٹ شدہ کیسز میں عزت کے نام پر ایسی تلخ اور جاہلانہ سزائیں جرگہ، قبائلی سرداروں اور دیہاتی کونسلز کی جانب سے دی جاتی ہیں۔ خاندانی عزت کے نام پر جرائم ایک حساس موضوع ہے جہاں خواتین کو محض خاندان کی فرسودہ روایات سے بغاوت کے تناظر میں قتل کر دیا جاتا ہے۔ عزت کے نام پر قتل کی کوئی واضح تعداد نہیں کیونکہ زیادہ تر واقعات کو طبعی موت اور خودکشی کا رنگ دے دیا جاتا ہے۔ لیکن نشاندہی کے طور پر خیبر پختونخوا کے 2017 کے اعداد و شمار کا جائزہ لیا جاسکتا جہاں 94 خواتین کو غیرت کے نام پر قریبی رشتہ داروں کی جانب سے قتل کردیا گیا۔

حالیہ واقع جہاں اسلحہ بردار لوگوں نے ایک نوعمر لڑکی کو ڈیرہ اسماعیل خان کے ایک گاؤں میں برہنہ چلنے پر مجبور کیا۔ لڑکی نے گھروں کے دروازوں پر دستک دے کر کپڑے مانگے اور مدد کی استدا کی لیکن کسی نے اسلحہ بردار لوگوں کے ڈر سے مدد نہ کی۔ چشم دید گواہوں کے مطابق یہ سلسلہ ایک گھنٹہ تک جاری رہا۔ یہ واقعہ 27 اکتوبر کو پیش آیا جب پانی لے کر گھر لوٹتی 16 سالہ بچی کو مردوں نے گھیر لیا اور جبراً برہنہ کر کے دیہات میں ایک گھنٹہ تک چلنے پر مجبور کیا۔ لڑکی نے مدد کے لیے چیخ چیخ کر استدا کی لیکن کوئی بھی آگے نہ بڑھا۔ گواہوں کے مطابق لوگ خوف سے آگے نہ آئے۔

ظلم کا شکار ہونے والی بچی کو اپنے بھائی کے تین سال پہلے گاؤں میں ایک لڑکی کے ساتھ تعلقات کی بِنا پر سزا کا مستحق ٹھہرایا گیا۔ پنچائیت نے سجاد کے خاندان کو معاملہ سلجھانے کے لیے 250000 ادا کرنے کو کہا۔ اس فیصلے میں تحصیل ناظم بھی شریک رہا۔ مظلوم کے خاندان کی جانب سے رپورٹ درج کرنے میں پولیس نے تذبذب کا اظہار کیا۔ کیس رپورٹ ہونے سے پہلے کئی دفعہ بچی کو پولیس اسٹیشن لے جایا گیا۔ مزید یہ بتایا گیا کہ شکایت لڑکی کے خاندان کے خلاف ہی درج کرلی گئی۔

یہ امتحان صرف مجرموں کا نہیں بلکہ اس عدالتی نظام کا ہے۔ عدالت کو عوام میں اپنا اعتماد بحال کرنے کے لیے مجرموں کو کیفرِ کردار تک پہنچانا ضروری ہے اور یہ حکومت کی جانب سے خواتین کے لیے کم سے کم اقدام ہے۔ حالات کو عوام کے لیے بغیر کسی طبقاتی، مذہبی اور جنسی تضاد سے پاک کرنا حکومت کی ہی زمہ داری ہے۔ تمام خواتین جو غیرت کے نام پر ظلم کا نشانہ بنیں یہ واقعات ساری زندگی انہیں خوف میں مبتلا رکھے گے۔ ایسی خواتین کو نچلے طبقات میں سزا کے طور پر بیاہ دیا جاتا ہے اور خاندان کےمعاملات سے عاق کردیا جاتا ہے۔ وہ پھر ظلم کی ایک نئی دنیا میں داخل ہوجاتی ہے جہاں اپنے اوپر ہونے والے ہر ظلم کے خلاف آواز اٹھانے پر انہیں کالی اور بدکردار عورت ہونے کا الزام دے دیا جاتا ہے۔

https://www.samaa.tv/urdu/blogs/2017/11/949287/

Join our list

Subscribe to our mailing list and get interesting stuff and updates to your email inbox.

Thank you for subscribing.

Something went wrong.


Like it? Share with your friends!

5365
9.1k shares, 5365 points
Rohayl Varind

Mohammad Rohayl Varind is an International Award Winning Social Entrepreneur, Innovator & Educationist. He is the CEO of Times of Youth Magazine & Share To Aware. Rohayl is the founder of Pakistan's First Solar Night School, Solar Bags & Labour School. Rohayl is Fighting War Against Poverty, Terrorism & Illiteracy since 2007.

0 Comments

Your email address will not be published. Required fields are marked *