بچوں کی بچپن میں شادی نہیں ہونی چاہئے


5367
9.3k shares, 5367 points

میڈیا اور اسمبلیز میں ایک حساس موضوع ،بچوں کی شادی پر بحث و مباحثہ جاری رہتا ہے۔ ایسے قوانین موجود ہیں جو بچوں کی معصومیت کو مجروع ہونے سے بچاتے ہیں تاہم کچھ مذہبی ، ثقافتی اور سماجی عوامل ان قوانین کو ماند کردیتے ہیں۔

چائلڈ میرج کے قوانین بلاشبہ موجود ہیں تاہم انسانی حقوق کی تنظیمیں مطمئن نہیں۔ نیم دلی سے نافذ کیے گئے ان قوانین کا تضاد موجودہ قوانین اور دوسری رکاوٹوں سے ہے جس کے باعث صورتحال حوصلہ افزا نہیں۔ اسی باعث تنظیموں کا احتجاج بچے اور بچیوں کی قابلِ رحم عمروں میں شادی کے خلاف جاری رہتا ہے۔

اقوامِ متحدہ چلڈرن فنڈز کے مطابق پاکستان میں تین فیصد بچیوں کی شادی 15 سال سے پہلے کردی جاتی ہے جبکہ 21 فیصد سے زائد بچیوں کی شادی 18 سال سے پہلے کردی جاتی ہے۔یہ شماریات 2013-2012 صحتی مسائل (پی ڈی ایچ ایس)کے لیے کیے گئے سروے سے لیے گئے ہیں۔ اس بات کو سمجھنے کے لیے ہمارا سائنسدان ہونا ضروری نہیں کہ نوعمری میں کی جانے والی شادیوں کے باعث بچوں کی شرح اموات میں اضافہ دیکھنے میں آیا۔پاکستان میں بچوں کی شرح اموات کا تناسب 100000 فی 285 ہے ۔ پاکستان حمل اور شیر خوار بچوں کی صحت میں بہتری کے ہدف کو حاصل کرنے میں ناکام رہا۔

آغا خان یونیورسٹی کے مطابق 35 فیصد لڑکیوں کی شادیاں 18 سال سے پہلے کردی جاتی ہیں جن میں سے 8 فیصد 15 سال سے پہلے ماں بن جاتی ہیں۔ جس کی وجہ سے چھوٹی عمروں میں جان لیوا امراض کا نشانہ بن جاتی ہیں۔

چائلڈ میرج کو واضح کرنا ضروری ہے۔ بچوں کی معصومیت کے حفاظت کرنا اور ان کو بنیادی حقوق سے روشناس کروانا ناگزیر ہے۔ ورنہ یہ مسائل نئی نسل اور ملک و قوم کے لیے خطرناک ہے۔ سنِ بلوغت سے پہلے بیاہی جانے والی بچیاں صحتی امراض میں مبتلا رہتی ہیں۔ کم عمری میں حمل سے ہونے والی خواتین میں ابسٹیٹرک فیسٹول اور ماں بچے کی جان کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ کچھ مقامی قوانین پاکستان کے آئین کی خلاف ورزی کرتے ہیں اور بچوں کے حقوق سلب کر جاتے ہیں۔یو این کنونشن نے بچوں کے حقوق پر بات کرتے کہا کہ 18 سال سے کم عمر بچہ ہے۔

ڈاکٹر سجاد احمد این جی او پاکستانی قومی فارم برائے صحتِ خواتین کے مینیجر کے مطابق نوعمری میں کی جانے والی شادیوں کے نتیجے میں ہر سال تقریباً پانچ ہزار کیسز ابسٹیٹرک فیسٹول کے دیکھنے میں آتے ہیں۔

ایک نوعمر بچی کا ماں بننا ایک خطرناک صورتحال ہے کیونکہ بچی کی نازک ہڈیاں کمزور ہوتی ہیں اور مردوں کے مسلط زدہ معاشرے میں عورت کی صحت کا خیال نہیں رکھا جاتا ۔ چند اور بالکل نہ ہونے کے برابر صحتی مراکز کی وجہ سے گھر میں ہی ڈلیوری کردی جاتی ہے۔ جس کی وجہ سے حمل سے منسلکہ خطرات کو نہیں بھانپا جاتا اور نتیجتاً ماں اور بچے کی موت بھی واقع ہو جاتی ہے۔

https://www.samaa.tv/urdu/blogs/2017/11/966366/

Join our list

Subscribe to our mailing list and get interesting stuff and updates to your email inbox.

Thank you for subscribing.

Something went wrong.


Like it? Share with your friends!

5367
9.3k shares, 5367 points
Rohayl Varind

Mohammad Rohayl Varind is an International Award Winning Social Entrepreneur, Innovator & Educationist. He is the CEO of Times of Youth Magazine & Share To Aware. Rohayl is the founder of Pakistan's First Solar Night School, Solar Bags & Labour School. Rohayl is Fighting War Against Poverty, Terrorism & Illiteracy since 2007.

0 Comments

Your email address will not be published. Required fields are marked *