تعلیم بانٹنے والوں کو تعلیم کی ضرورت ہے

11:03:00 AM

چائلڈ لیبر ایسا زہر ہے جو زمانہِ قدیم سے دنیا میں ناسور کی طرح پھیلتا رہا ہے۔ وہ ہاتھ جن میں کھلونے، کتابیں اور قلم ہونے چاہیے تھے، معاشرے اور زمانے نے زبردستی ان ہاتھوں میں اوزار تھما دیئے ہیں۔

ایسی ہی داستان ایک لڑکے کی ہے جو میں آپ کو سنانا چاہوں گا۔ احمد ایک گیارہ سالہ لڑکا ہے جو پچھلے کچھ مہینوں سے لاہور کی ایک ٹی شرٹ پرنٹنگ کی دکان میں ملازم ہے۔ فیصل آباد سے تعلق ہوتے ہوئے اپنے خالہ زاد بھائی کے کہنے پر 
اس نے بہتر روزگار کی تلاش میں لاہور کا رخ کیا۔

احمد کے چائلڈ لیبر بننے کی وجہ دن بہ دن اس کے خاندان کے ابتر ہوتے معاشی حالات تھے۔ خاندان کا بڑا بیٹا ہوتے ہوئے اس نے حالات کو سدھارنے کا عزم کیا اور روزگار کی تلاش میں دوسرے شہر کا رخ کرلیا۔ لاہور جانے سے پہلے احمد نے فیصل آباد میں بھی قسمت آزمائی کی مگر بے سود۔ اس لیے بہتر کی تلاش میں اس نے شہر تبدیل کرلیا۔

چونکہ احمد کی خالہ لاہور میں تھیں اس لیے گھر میں کسی کو اس کے ٹھکانے کی پروا نہ ہوئی۔ وہ ہفتے میں چھ دن اور روزانہ بارہ گھنٹے کام کے بعد ماہانہ 6000 روپے کما پاتا۔ ہفتے میں صرف ایک دن چھٹی ہوتی اور وہ دن وہ اپنے خالہ زادوں کے ساتھ کھیل کر گزار دیتا۔ ایک بچے کےلیے اپنے گھر سے دور کسی اور شہر میں رہنا آسان نہیں تھا۔ اس کی جذباتی وابستگی اپنے گھر والوں سے والہانہ تھی۔ وہ اپنے گھر تقریباً روزانہ فون کرتا لیکن کم پیسے ہونے کے باعث یہ کالزمحض چند سیکنڈوں پر محیط ہوتیں لیکن وہ خوش تھا کہ کم از کم وہ ان کی آواز تو سن لیتا ہے۔

ایک دن اس کا فون اس کی خالہ کے گھر سے چارج کرتے کسی نے چرا لیا۔ وہ دن اس کا بدترین دن تھا کیونکہ اس دن اس نے اپنے گھر والوں کی آواز نہیں سنی۔ ان کی آواز سن کے وہ اپنی زندگی کی مشکلات بھول جاتا۔ ایک دن اس کا جھگڑا اپنے خالہ زاد سے ہو گیا اور یہ ایک نیا موڑ ثابت ہوا۔ اس کی خالہ نے اسے گھر سے نکال کر بے گھر کردیا۔ تمام مشکلات کے بعد بھی اس نے امید کا دامن نہیں چھوڑا اور اپنے دوست کے پاس مدد کےلیے گیا جس نے کچھ دن اس کی مدد کی اور اسے اپنے ستھ رکھا۔ لیکن ایک مہینے بعد دوست نے بھی اسے اپنے ساتھ رکھنے سے معذرت کرلی اور احمد ایک بار پھر سے بے گھر ہوگیا۔

اس نے اپنی ملازمت چھوڑدی اور اپنے آبائی گھر آگیا۔ میری اس سے ایک اتفاقیہ ملاقات ہوئی۔ تجسس کی وجہ سے میں نے اس سے اس کی تعلیم کے متعلق پوچھا۔ اس نے کہا کہ وہ سات برس کا تھا جب اس کی ماں نے اس کو پہلی بار اسکول بھیجا لیکن اس دن اس نے کبھی اسکول نہ جانے کا فیصلہ کرلیا۔ پوچھنے پر اس نے بتایا کہ پہلے ہی دن ایک استاد کو کسی بچے پر تشدد کرتے دیکھا۔ یہ دیکھ کر وہ ڈرگیا اور پھر اس نے کبھی اسکول نہ جانے کا فیصلہ کرلیا۔

یہ کہانی سنتے ہوئے میں نے سوچا کہ ہمارے بچوں کو تعلیم دینے سے پہلے ہمیں ہمارے تعلیم بانٹنے والوں کو تعلیم دینے کی ضرورت ہے کہ کیسے ایک بچے کے ساتھ پیش آنا چاہیے اور اسکولوں اور جیلوں کا نمایاں فرق کیا ہے۔ بچے معصوم فرشتے ہوتے ہیں نہ کہ کوئی مجرم جنہیں مارا پیٹا جائے۔ انہیں نہایت احتیاط سے پروان چڑھانے کی ضرورت ہے۔ ڈنڈے کے زور پر کبھی بھی بچے کو سمجھایا نہیں جاسکتا۔ ضرورتاً بغیر تشدد کے تعمیری سزا کا انتخاب کیا جاسکتا ہے جو نہ صرف بچوں بلکہ معاشرے کےلیے بھی فائدہ مند ہے۔

میرا یقین ہے کہ ہمارا ہر معاشرتی مسئلہ، جس کا ہمیں سامنا ہے، محض ’’تعلیم ہی بدل سکتی ہے‘‘ اور درست طریقہ دوسروں میں علم بانٹنا اور یہ احساس دلانا ہے کہ آخر میں ہم سب انسان ہیں جو غلطیاں کرتے رہتے ہیں؛ لیکن ساتھ ہی ساتھ انسان میں اتنی قوت بھی ہے کہ پھر سے ابھر سکے۔

آئیں ہاتھوں میں ہاتھ لے کر یہ تبدیلی لائیں، اپنی آنے والی نسلوں کے مستقبل کےلیے چائلڈ لیبر کو ختم کریں اور تعلیم کو عام کریں۔

روحیل ورنڈ

It was also published on Express News
https://www.express.pk/story/967871/

ایسی ہی داستان ایک لڑکے کی ہے جو میں آپ کو سنانا چاہوں گا۔ احمد ایک گیارہ سالہ لڑکا ہے جو پچھلے کچھ مہینوں سے لاہور کی ایک ٹی شرٹ پرنٹنگ کی دکان میں ملازم ہے۔ فیصل آباد سے تعلق ہوتے ہوئے اپنے خالہ زاد بھائی کے کہنے پر اس نے بہتر روزگار کی تلاش میں لاہور کا رخ کیا۔