بچوں پر ظلم آخر کب تک

4:02:00 PM


بچوں کا استحصال ایک بالغ حتیٰ کہ بچہ بھی کرسکتا ہے جس کےاثرات بچے کی شخصیت پر منفی تاثر چھوڑتی ہے۔ یہ زیادتی جسمانی ، جنسی اور جذباتی بھی ہوسکتی ہے ۔ بچوں کا یہ استحصال پیار اور توجہ میں کمی سے بھی ہوسکتا ہے۔ بچوں کو نظرانداز کرنا بھی اتنا ہی نقصان دہ ہے جتنا کہ ایک جسمانی استحصال۔ ہم میں سے بہت سے یہ سوچتے ہیں کہ پاکستان میں ایسا نہیں ہوتا لیکن حقیقت بالکل اس کے برعکس ہے۔ ہم میں سے بہت سے یہ بات جانتے ہیں کہ استحصال کی تین اقسام ہیں جسمانی، جنسی اور جذباتی۔تمام نوعیت کے استحصال اس صدمے سے گزرنے والےبچے کی شخصیت کے لیے نہایت تباہ کن ہیں ۔متوسط طبقے میں یہ جرم زیادہ دیکھنے میں ملتا ہے ۔ اس کا انحصار گھریلو حالات کی نوعیت پر بھی ہے۔

جسمانی زیادتی زخموں اور ٹوٹی ہڈیوں سے کہیں زیادہ ہے۔جسمانی زیادتی کو چونکہ اس لیے بھی زیادہ پرتشدد سمجھا جاتا ہے کہ اس کے ذخم جسم پر نشان چھوڑ جاتے ہیں لیکن بچوں کو احساسِ کمتری میں مبتلا کرنا، انہیں توجہ نہ دینا ایسے استحصال ہیں جن کے زخم بچے کی روح پر ساری زندگی کے لیے نقش ہو جاتے ہیں۔کسی قسم کی بھی زیادتی کے نتیجے میں بچے کو شدید زہنی ازیت سے دو چار ہونا پڑتا ہے۔بچوں سے زیادتی بہت ہی عام جس پر آواز اٹھانا بہت ضروری ہے۔بچوں سے زیادتی صرف برے لوگ ہی نہیں کرتے کیونکہ وہ بھی زندگی کے کسی حصے میں اس زیادتی کا شکار ہوئے ہوتے ہیں۔ہم میں سے بہت لوگوں کا یہ ماننا ہے کہ زیادتی صرف اجنبی ہی کرتے ہیں لیکن یہ شیطان صفت لوگ ہمارے خاندان میں بھی ہوسکتے ہیں اور کسی پر بھی یقین قطعی ناممکن ہے۔

تقریباًہر روز 10 بچے جنسی زیادتی کا نشانہ بنتے ہیں ۔ 2016 میں 100 بچوں کو زیادتی کے بعد قتل کردیا گیا۔ مارچ 2017 کی رپورٹ کے مطابق ان واقعات میں پچھلے سال کی نسبت 10 فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔ بچوں سے زیادتی ایک عالمی مسلہ بن چکا ہے جس کا شکار تمام ممالک ہیں۔ پاکستان میں بچے اور عورتیں نہایت کمزور سمجھے جاتے ہیں۔ قصور میں حال ہی میں وقوعِ پذیر ہونے والا بچوں سے زیادتی کا واقعہ اسی کمزوری کا شاخسانہ ہے۔دنیا بھر سے انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں نے اس واقعےاور متاثرہ خواتین اور بچوں سے افسوس کا اظہار کیا۔بچوں سے بدفعلی صدیوں سے جاری ہے۔ اٹھارویں اور انیسویں صدی کے اوائل میں انگلستان کو اس لعنت نے اپنی لپیٹ میں لے رکھا تھا۔ بچے کہیں ہر بھی اس کا شکار ہوسکتے ہیں حتٰی کہ سکول بھی محفوظ نہیں 2016 میں لاڑکانہ میں 13 سالہ بچی کو ایک استاد نے لگاتار زیادتی کا نشانہ بنایا۔ جماعت چہارم کی یہ بچی میڈیکل چیک اپ کے وقت چار مہینوں کی حاملہ تھی بعدازاں اس استاد کو گرفتار کرلیا گیا۔ بدقسمتی سے اس زیادتی کا نشانہ بننے والے بچوں کے لواحقین "شرمندگی" سے بچنے کے لیے ان واقعات کی رپورٹ درج نہیں کرواتے۔ ساحل ایک غیر سرکاری تنظیم جو بچوں سے زیادتی کے خلاف سرگرم ہے کی رپورٹ کے مطابق 2015 میں ان واقعات کی تعداد 3768 تھی جبکہ 2016 میں 4139 کا اضافہ ہوا۔ رپورٹ کے مطابق 2410 لڑکیاں اور 1729 لڑکے اس جنسی استحصال کا نشانہ بنے۔ 45 فیصد بچوں کی عمریں 15 سے 6 کے درمیان تھیں۔

میرا ماننا ہے کہ بچوں کو اس زیادتی سے آگاہ کرنا والدیںن اور اساتذہ کا کام ہے۔ اس موضوع پر سیمینارز اور پروگرامز ہونے چاہیے تاکہ بچوں کو اس سب سے آگاہ کیا جاسکے۔ زیادتی اور اس سے بچنے کے لیے اساتذہ اور والدین کی کاوشوں کو بھی نظرانداز نہیں کرنا چاہیے۔ بچوں کو اس بارے میں تعلیم دے کر ہم نہ صرف معاشرے میں کلیدی کردار ادا کرسکتے ہیں جبکہ بچوں کو بھی اس گھناؤنے فعل سے بچا سکتے ہیں۔ بچوں کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں کو چھپانے کی بجائے فوراً واقعے کی رپورٹ درج کروائیں۔

https://www.samaa.tv/urdu/blogs/2017/11/957692/