بھائی کی معذوری بنی فواد کی مجبوری

4:09:00 PM


چائلڈ لیبر آسانی سے حل ہونے والا مسئلہ نہیں، اس لعنت کو ختم کرنے کیلئے ہمیں ہر اس فیکٹری اور ادارے سے الحاق ختم کرنا ہوگا جو چائلڈ لیبر کی تشہیر کرتے ہیں، کچھ بچے نہایت غریب ہوتے ہیں جو اپنے خاندان کا پیٹ پالنے کیلئے اور تعلیمی اخراجات اٹھانے کیلئے مزدوری کرتے ہیں، پیسے کی ضرورت نے بچوں کو کم اجرت والے کام حتیٰ کہ مکروہ کاروباروں میں بھی شامل ہونے پر مجبور کردیا ہے۔

ایک رپورٹ کے مطابق 40 فیصد ملک کی آبادی غربت کی لکیر سے بھی نیچے ہے، جو اپنے بچوں کو کھانا تک نہیں کھلا سکتے، اس کے نتیجے میں بچوں کو اپنا اور اپنے گھر والوں کا پیٹ پالنے کیلئے کام کرنا پڑتا ہے، ایک اور رپورٹ کے مطابق تقریباً 12.5 ملین بچے پاکستان میں چائڈ لیبر پر مجبور ہیں۔

آج میں آپ کو 13 سالہ فواد کی کہانی سنانا چاہوں گا جو کہ پردے اور بستر کی چادریں بیچتا ہے، اس کے 5 بھائی اور ایک بہن ہے، پانچوں بھائی ایک ہی کام لیکن مختلف کرائے کی دکانوں پر کرتے ہیں، اس کے چاروں بھائی اور والدین کبھی اسکول نہیں گئے لیکن فواد نے پانچویں جماعت تک تعلیم حاصل کی، 3 مرتبہ پانچویں میں فیل ہونے کے بعد اس کے والدین نے اس کا تعلیمی سلسلہ منقطع کردیا اور اس کے بڑے بھائی کے ساتھ کام پر لگا دیا، فواد کا بھائی 7 سال قبل ایک حادثے کے نتیجے میں ٹانگوں سے معذور ہوگیا تھا، اس لئے اسے ایک محنتی اور وفادار ساتھی کی ضرورت تھی۔ جس دن فواد کے خاندان نے اس کو پڑھائی چھوڑنے کا کہا اسی دن سے وہ اپنے بھائی کے ساتھ کام پر لگ گیا، فواد نہایت دلجمعی سے اپنے کام پر توجہ دیتا ہے، فواد سے بات کرتے ہوئے میں نے اس سے مزدوری سے پہلے کی زندگی کا پوچھا۔ ایک ٹھنڈی آہ کے ساتھ اس نے اپنی تعلیم چھوڑنے کا افسوس کیا اور کہا کہ وہ اپنے دوستوں اور اساتذہ کو یاد کرتا ہے، اس کو اپنے دوستوں کے ساتھ کھیلنا اور ان کے ساتھ پارکس میں جانا یاد آتا ہے، لیکن ایک بات جو میں نے محسوس کی وہ اس کا مطمئن ہونا تھا، اپنے بھائی اور گھر والوں کا سہارا بن کر اس کے چہرے پر آنیوالی خوشی واضح تھی۔

فواد نے کہا اس کے بھائی اس کیلئے کوئی ایسا فیصلہ نہیں کریں گے جو اس کے حق میں بہتر نہ ہو چنانچہ مستقبل کا فیصلہ بھائیوں کے ہاتھ میں دے دیا ہے، اگر وہ پڑھ لکھ بھی جاتا تب بھی اس کے مستقبل کا فیصلہ اس کے بھائی ہی کرتے، بھائیوں کیلئے اس کی یہ محبت دیدنی تھی۔

فواد کے دن کا سب سے بہترین وقت 12 گھنٹے کے کام کے بعد تھکا ماندہ اس کا گھر لوٹنا ہوتا ہے، معاشرے میں موجود چائلڈ لیبر جیسی لعنتوں سے چھٹکارہ قطعی آسان نہیں، البتہ ہم اپنا کردار ادا کرکے معاشرے میں موجود ایسے بچوں کیلئے آسانیاں پیدا کرسکتے ہیں۔

وقت کی ضرورت کے تحت معاشرے میں ظلم کا شکار ان بچوں کے حقوق کیلئے کھڑے ہونا ناگزیر ہے، ان کے حقوق کا خیال رکھتے ہوئے ہمیں ان کی فلاح کیلئے اٹھ کھڑے ہونا ہوگا تاکہ وہ ایک اچھی زندگی گزار سکیں اور معاشرے کے مفید و ذمہ دار شہری بن سکیں۔

https://www.samaa.tv/urdu/blogs/2017/11/942376/