کچھ نامکمل خواہشیں

10:57:00 AM
Rohayl Varind Blogs

ہم روزمرہ زندگی میں بہت سے مصیبت زدہ لوگوں کو دیکھتے ہیں لیکن ہم میں سے کوئی بھی کچھ وقت نکال کر ان کی پریشانیوں کے بارے میں نہیں سوچتا۔ میں آپ کو دس سالہ زبیر خالد کی کہانی سناتا چلوں جو میکڈونلڈز کے باہر غبارے بیچتا ہے۔

ایک دن گھر واپسی پر یہ بچہ بھیک مانگتے میری گاڑی کے قریب سے گزرا۔ اچانک مجھے خیال آیا کہ یقیناً وہ بھوکا ہوگا تو کیوں نہ اس کا پیٹ بھرا جائے اور اس چھوٹی عمر میں غبارے فروخت کرنے کی وجہ پوچھی جائے۔

میں نے اس کے تعارف سے بات چیت شروع کی اور یہ جانا کہ اس کی والدہ خاتونِ خانہ ہیں جبکہ والد زیرِ تعمیر گھروں میں ٹائلیں لگانے کا کام کرتے ہیں لیکن آمدنی کا کُل انحصار کام ملنے یا نہ ملنے پر ہوتا ہے۔ جس سے وہ بعض اوقات یومیہ 1000-600 کما لیتے ہیں۔

زبیر نے چھٹی جماعت تک اپنے گھر کے قریب ہی ایک پرائیوٹ سکول سے تعلیم حاصل کی۔ پہلے اس کے تعلیمی اخراجات اس کے والد کی ذمہ داری تھی لیکن مستقل بیروزگاری اور معاشی مسائل کی بنا پر اس کو اور اس کے چھوٹے بھائی کو جس کی عمر سات سال تھی اور تیسری جماعت کا طالبِعلم تھا، تعلیم کو مجبوراً منقطع کرنا پڑا۔

سکول چھوڑتے ہی زبیر نے ریشم کی فیکٹری میں کام شروع کر دیا جدھر صبح آٹھ سے شام پانچ تک وہ بُنائی کا کام کرتا اور بمشکل ماہانہ 3500 کما پاتا۔ کم تنخواہ کی بِنا پر اس نے جلد ہی یہ کام چھوڑ دیا اور فیصل آباد کی مرکزی شاہراہ پر کھلونے اور غبارے فروخت کر کے یومیہ 700-600 کمانے لگا جو اس کی پچھلی تنخواہ سے کہیں زیادہ ہے۔ اگرچہ اب اس کو زیادہ مشکلات کا سامنا ہے۔ اس کا والد شام کو اسے میکڈونلڈز کے باہر چھوڑ جاتا ہے لیکن شاز و نادر ہی وہ واپس جاتا ہے اور پھر رات اسے قریبی پارک میں سو کر گزارنا پڑتی ہے۔

اس کی آنکھوں میں کچھ بننے کی چمک کی بنا پر میری شدت سے یہ خواہش تھی کہ وہ سکول جائے، اس لیے میں نے اس سے پوچھا کہ وہ گورنمنٹ سکول کیوں نہیں جاتا۔ اس نے کہا، میں وہاں گیا لیکن اساتذہ کی مار پیٹ کی وجہ سے بمشکل 15 دن رہ پایا۔ مار سے میرے ہاتھ اور بازو بری طرح زخمی ہوگئے حتیٰ کہ میرا بازوبھی توڑ دیا۔ اس نے کہا کسی بچے کی شرارت کا الزام اس پر لگایا گیا اور صرف اس بات پر اس کو اپنے ناکردہ جرم کی سزا بھگتنی پڑی۔ غبارے فروخت کے باوجود اور ان مشکلات کے ہوتے ہوئے وہ تعلیم حاصل کرنے کے لیے پر عزم تھا۔

مزید استفسار پر اس نے اپنے خاندان، خاص طور پر بہن بھائیوں کے بارے میں بتایا۔ اس کی دو بہنیں اور چار اور بھائی ہیں۔ بڑی بہن شادی شدہ جبکہ چھوٹی گھر پر ہی ہے۔ اس کا چھوٹا بھائی بمشکل دو سال کا ہے۔ بڑا بھائی رکشہ چلا کر 900-800 کی دہاڑی کماتا ہے اور گھر والوں کی کئی دفعہ درخواست پر بھی ایک روپیہ دینے کا بھی روادار نہیں۔ اپنے تمام پیسے وہ اپنے نئے کپڑوں پر صرف کر دیتا ہے۔ اس سے چھوٹا بھائی لاہور میں ایک سیلون پر کام کرتا ہے اور بڑے بھائی کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے گھر کچھ امداد نہیں کرتا۔ اپنے سب سے بڑے بھائی کا بتاتے وہ غمزدہ ہو گیا جو محض ستائیس سال میں ایک دہشتگرد مقابلے میں 2013 میں جامِ شہادت نوش کر گیا۔ زبیر بھی پولیس محکمے میں جانے کے لیے پرجوش ہے اور اس کے والدین کی بھی یہی خواہش ہے۔

تقریباً 90 منٹ اس سے بات کے بعد میں نے آخری سوال اس سے یہ پوچھا کہ کیا وہ سکول جانا چاہتا ہے۔ نہایت پر امید ہو کر اس نے جواب دیا کہ اگر کوئی اس کے تعلیمی اخراجات اٹھائے تو وہ ضرور جائے گا۔ “میں پڑھنا چاہتا ہوں اور تعلیم یافتہ بننا چاہتا ہوں۔ میری ماں نے مجھ سے وعدہ کیا ہے کہ معاشی حالات سدھرتے ہی وہ مجھے اور میرے بھائی کو سکول میں داخل کروا دیں گی”۔

ان انٹرویوز کا مقصد محض یہ جاننا ہے کہ ایسے کونسے عوامل ہیں جو ان کو بنیادی تعلیم حاصل کیے بغیر ہی تعلیی سلسلہ منقطع کر کے چائلڈ لیبر کرنا پڑتی ہے۔ اکثر لوگوں کے ساتھ گھریلو مسائل اور غربت جیسے عوامل کار فرما ہوتے ہیں۔ اس سب کو سمجھنے کے بعد میں نے خود سے پوچھا کہ آخر کیوں ہمارے بچے بنیادی تعلیم سے محروم ہیں اور ہم مستقبل کی کس نسل کی تعمیر کر رہے ہیں۔ یہ نہایت دل گرفتہ کرنے والی بات ہے کہ معاشرہ نوجوانوں کی امیدوں کا گلا گھونٹتے ہوئے تباہی کی جانب گامزن ہے۔

روحیل ورنڈ

It was also published on Dunya News
http://blogs.dunyanews.tv/urdu/?p=3179

زبیر نے چھٹی جماعت تک اپنے گھر کے قریب ہی ایک پرائیوٹ سکول سے تعلیم حاصل کی۔ پہلے اس کے تعلیمی اخراجات اس کے والد کی ذمہ داری تھی لیکن مستقل بیروزگاری اور معاشی مسائل کی بنا پر اس کو اور اس کے چھوٹے بھائی کو جس کی عمر سات سال تھی اور تیسری جماعت کا طالبِعلم تھا، تعلیم کو مجبوراً منقطع کرنا پڑا۔